دارالعلوم کی سرکردہ منازل

دار العلوم کی سر کردہ منازل

  • کرایہ کے مکان سے شروع ہوئے ایک چھوٹے سے مکتب کا آج دار العلوم جیسے عظیم ادارہ کی شکل میں وجود جس میں دورہ حدیث شریف تک مکمل تعلیم۔
    مکاتب کے نظم کے ذریعہ مسلمان نو جوانوں میں سو فیصدبنیادی دینی تعلیم۔
    دار العلوم نے آج تک امت اسلامیہ کو 737علماء کرام ، 1140حفاظ عظام،قراء402نیز 190عالمہ کا گرانقدر گلدستہ پیش کیا ہے۔
    ضلع مہی ساگر اور پنچ محل کے قریہ قریہ علم دین کی اشاعت ۔
    بدعات اور رسوم و رواج کے قلع قمع میں کافی حد تک کامیابی ۔
    شعبۂ نشر و اشاعت کے ذریعہ عوام میں علمی بیداری اور طلب علم کا رو نما ہونا ۔
    دیہی مکاتب کی تعداد115تک اور اس کے ذریعہ پورے علاقہ میں علم دین کا فیضان ۔
    فضلاء اور حفاظ کرام کے ذریعہ بیرون ہندمیں بھی علمی فیض جاری ۔
    دینی تعلیم کی سو فیصد ترقی و حصول مقصد کے پیش نظر انگریزی ، گجراتی ،حساب ،خیاطی،بک بائنڈنگ ،کمپیوٹر ، آپٹیک ٹریڈ اور سرکاری تسلیم شدہ پرائمری اسکول و غیرہ کی تعلیم کا نظم۔
    لوناواڑہ شہر میںبڑی لڑکیوں کی عالمیت کی تعلیم کے لئے ’جامعہ عائشہ صدیقہؓ ‘‘(غیر اقا متی ) ادارہ کا قیام۔
    جمعیۃ اسٹڈی سینٹر کے ذریعہNIOS بورڈ سےSSC اورHSCکی تعلیم۔
    مرکزی حکومت کی ماتحت جاری مولاناآزاد نیشنل یونیورسیٹی نے دارالعلوم لوناواڑہ کی عالمیت کی سند کو گریجویشن کے مساوی سند کی منظوری۔
    عصری طلبہ کے لئے پانچ سالہ مختصر مدتی عالم کورس۔